تازہ ترین خبریں

سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش دھماکے سے 53 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی


کوئٹہ: بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد سول اسپتال میں دھماکے کے نتیجے میں میڈیا کے نمائندوں اور وکلا سمیت 53 افراد جاں بحق جب کہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کوئٹہ کے علاقے منوجان روڈ پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلاول انور کاسی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے، ان کی میت سول اسپتال لائی گئی تھی، جس کی وجہ سے وکلا، صحافیوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد اسپتال میں پہنچ گئی، اسی دوران اسپتال کے شعبہ حادثات کے مرکزی دروازے پر زور دار دھماکا ہوگیا۔ دھماکے کے بعد ہونے والی فائرنگ سے اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی۔
اسپتال ذرائع نے دھماکے کے نتیجے میں 53 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے جن میں بلوچستان بار کے سابق صدر تاج محمد کاکڑ  سمیت کئی صحافی اور وکلا بھی شامل ہیں جب کہ درجنوں افراد زخمی ہیں، زخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ طبی عملے نے عوام سے خون کے عطیات جمع کرانے کی اپیل کردی ہے۔ اس وقت سول اسپتال میں 38 ، سی ایم ایچ میں 13 جب کہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں2  لاشیں موجود ہیں۔
دوسری جانب واقعے کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے اسپتال کے مختلف شعبوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں طبی سہولیات کی فراہمی کا سامان اور دیگر دفتری سامان کا نقصان ہوا ہے جس کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جب کہ دھماکے کی جگہ سے شوہد اکٹھے کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں کیا گیا دھماکا خود کش تھا اور اس میں 15 سے 20 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری  نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ بزدلانہ واقعہ ہے ،ملوث افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نواز شریف نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام ، فورسز اور پولیس کی بے پناہ قربانیوں کے بعد امن بحال ہوا، کسی کو بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ڈیلی نیوز فورم Designed by Templateism.com Copyright © 2014

Bim کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.